Skip to content
دلاور فگار دلاور فگار

ضرورتِ رشتہ

ایک لڑکا ہے اصیل النسل عالی خاندان عمر ہے لڑکے کی ففٹی سکسٹی کے درمیان قبض رہتا ہے نہ اس کو نزلہ کی تحریک ہے ایک دن ٹی بی ہوئی تھی اب طبیعت ٹھیک ہے آنکھ کی اک شمع روشن، دوسری تھوڑی سی گل مختصر یہ ہے کہ لڑکا ہے بہت ہی بیوٹی فل پی کے ما اللحم جب ملتا ہے داڑھی پر خضاب اس کے چہرہ پر نظر آتے ہیں آثار شباب طالب رشتہ، قیود علم سے آزاد ہے کچھ ادیبوں کی طرح وہ فطرتاً استاد ہے اس کے ہاتھوں میں کسی بھی ’’ ازم‘‘ کا تیشہ نہیں اس مسلماں کو کسی فتوے کا اندیشہ نہیں عالموں کے ساتھ رہ کر وہ بھی جید ہو گیا پہلے جانے کیا تھا، رفتہ رفتہ سید ہو گیا بر بنائے مصلحت یا بر بنائے انتقام آج تک کنوارا ہے یہ وحدت پرستوں کا امام اس کے بارے میں یہی کہتی ہے دنیا بالعموم وہ موحد ہے اور اس کا کیش ہے ترک رسوم شب کو براتے میں کہتا ہے مجھے دولہا بناؤ کوئی بیوہ ہو تو اس کو میری منکوحہ بناؤ کیا بتاؤں کس قدر دلچسپ باتیں اس کی ہیں "نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیں" شادیوں کی آج چونکہ گرمیِ بازار ہے کوئی کنوارا شہر میں بچنا بہت دشوار ہے سوچتا ہے اب کہ سہرا باندھ لے یہ نونہال پیر نابالغ کو اب آیا ہے شادی کا خیال اس کو لڑکی چاہیئے، لڑکی جو آوارہ نہ ہو درحقیقت چاند ہو، مصنوعی سیارہ نہ ہو جامعہ کی کوئی بھی ڈگری ہو اس کے ہاتھ میں کوئی ڈپلومہ نہ لائی ہو سند کے ساتھ میں زلف پیچاں کی جگہ پٹھے نہیں رکھتی ہو وہ گھر پہ پہرہ کے لئے ’’کتے‘‘ نہیں رکھتی ہو وہ اس کو لڑکی چاہئے، جو صورتاً لڑکا نہ ہو جس کے دل میں شعلہ مردانگی بھڑکانہ ہو لڑکی میکے میں قیام مستقل فرمائے گی حال میں دو چار دن سسرال بھی آ جائے گی لڑکی اپنے ساتھ لائے کم سے کم دو لاکھ کیش تاکہ لڑکا بعد شادی کر سکے آرام و عیش مستعد شوہر تو بس لیٹا رہے گا، صبح و شام نان نفقہ کا بھی بیگم خود کریں گی انتظام کوئی دوشیزہ اگر ہو حامل جملہ صفات خط میں لکھ بھیجے کہ کس دن اس کے گھر پہنچے برات بیاہ کی درخواست پر اردو میں لکھئے یہ پتا عاشق ناشاد، ون بی، فیڈرل بی ایریا کاش بر آئے کسی خاتون کے دل کی مراد "ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد"
دلاور فگار

دلاور فگار

View profile

دلاور فگار پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور مزاحیہ شاعر، نقاد اور ماہر تعلیم تھے۔ ان کا اصل نام دلاورحسین تھا۔دلاور فگار 8 جولائی، 1929ء کوبدایوں، میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں کے ’حمیدی صدیقی‘ خاندان میں ماسٹر شاکر حسین کے گھر آنکھ کھولی۔ والد مقامی اسکول میں استاد تھے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (معاشیات) کی اسناد بھی حاصل کیں۔ 1968ء میں کراچی ہجرت کر کے ائے۔لاور نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942ء میں کیا۔ انہیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی نامی اساتذہ کی رہنمائی ملی تھی۔21 جنوری 1998ء کو دلاور فگار کا انتقال ہو گیا۔[3] انھیں کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودہء خاک کیا گیا۔حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR