دلاور فگار
آٹھواں سہرا
مرے بنے کومبارک ہو آٹھواں سہرا
سنا رہا ہے جوانی کی داستاں سہرا
بنے کی عمر ہی کیا ہے فقط اَٹھاسی سال
سفید دھوپ کی شدت سے ہو گئے ہیں بال
نہ اس کا کون ہے وائٹ نہ اِس کا دل کالا
مرا بنا ہے بڑھاپے میں کیسا ہریالا
خوشی سے کیوں نہ کھلیں آج پھول سہرے کے
کہ اک بزرگ ہیں اپریل فول سہرے کے
مرے بنے کا تو ہے مشغلہ یہی ورنہ
کوئی مذاق ہے سات آٹھ شادیاں کرنا
حسد سے آج یہ کہتے ہیں شاہ کے پوتے
کہ دادا جان کے سہرے میں کاش ہم ہوتے
گلہ پدر سے یہ ہے ایک شہزادے کو
کہ میرا باپ نہ سمجھا مرے ارادے کو
عجیب شان سے سسرال جا رہی ہے برات
غمِ حیات سے بڑھ کر غمِ شریکِ حیات
برات لے کے چلا ہے یہ ہنس بے چارہ
سڑک پہ بھونک رہے ہیں سگانِ آوارہ
رُخِ جمیل کی سہرے میں اب یہ ہے صورت
کیا ہو جیسے قلنبیق کو گلِ حکمت
مرے بنے کو ملا ہے عجیب جہیز
بغیر آرام کی کرسی، بغیر ٹانگ کی میز
ڈنر دیاہے ولیمہ میں کیا مسلمانی
پلاؤ ، قورمہ، کندم کباب ، بریانی
جیہز میں یہ جو اک گرم شیروانی ہے
مرا خیال ہے اس کا بھی عقدِ ثانی ہے