دلاور فگار
سہرے میں مرثیہ
اچهے میاں کا عقد ہوا ہے بہار میں
کہدو کسی سے پهول بچها دے مزار میں
روئے حسیں پے سہرے سے کیسی بہار ہے
اے موت جلد آ کہ تیرا انتظار ہے
دولها دلهن شریف گھرانے میں ہیں پلے
لائی حیات آئی قضا لے چلی چلے
نوشہ کو عروس بڑی ذی ہنر ملی
مرحوم کو حیات بڑی مختصر ملی
یا رب بنی کے ساتھ ہمیشہ بنا رہے
یہ کیا رہیں گے جب نہ رسول خدا رہے
نوشہ کو عروج وہ رب جلیل دے
اور اس کے وارثین کو صبر جمیل دے