Skip to content
دلاور فگار دلاور فگار

ایک ادیب و شاعر سے ملاقات

کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں کہنے لگے کہ آؤ ذرا بحث ہی کریں کرنے لگے یہ بحث کہ اب ہند و پاک میں وہ کون ہے کہ شاعر اعظم جسے کہیں میں نے کہا جگرؔ تو کہا ڈیڈ ہو چکے میں نے کہا کہ جوشؔ کہا قدر کھو چکے میں نے کہا فراقؔ کی عظمت پہ تبصرہ بولے فراقؔ شاعر اعظم ارا ررا میں نے کہا ندیمؔ تو بولے کہ جرنلسٹ میں نے کہا رئیسؔ تو بولے سٹائرسٹ میں نے کہا کہ حضرت ماہرؔ بھی خوب ہیں کہنے لگے کہ ان کے یہاں بھی عیوب ہیں میں نے کہا کچھ اور تو بولے کہ چپ رہو میں چپ رہا تو کہنے لگے اور کچھ کہو میں نے کہا کہ ساحرؔ و مجروحؔ و جاں نثارؔ بولے کہ شاعروں میں نہ کیجے انہیں شمار میں نے کہا کلام روشؔ لا جواب ہے کہنے لگے کہ ان کا ترنم خراب ہے میں نے کہا ترنم انورؔ پسند ہے کہنے لگے کہ ان کا وطن دیوبند ہے میں نے کہا کہ ان کی غزل صاف و پاک ہے بولے کہ ان کی شکل بڑی خوفناک ہے میں نے کہا کہ یہ جو ہیں محشرؔ عنایتی؟ کہنے لگے کہ رنگ ہے ان کا روایتی میں نے کہا قمرؔ کا تغزل ہے دل نشیں کہنے لگے کہ ان میں تو کچھ جان ہی نہیں میں نے کہا نیازؔ تو بولے کہ عیب ہیں میں نے کہا سرورؔ تو بولے کہ نکتہ چیں میں نے کہا ظریفؔ تو بولے کہ گندگی میں نے کہا سلامؔ تو بولے کہ بندگی میں نے کہا فرازؔ تو بولے کہ زیر و بم میں نے کہا عدمؔ تو کہا وہ بھی کالعدم میں نے کہا خمارؔ کہا فن میں کچے ہیں میں نے کہا کہ شادؔ تو بولے کہ بچے ہیں میں نے کہا کہ طنز نگاروں میں دیکھیے بولے کہ سیکڑوں میں ہزاروں میں دیکھیے میں نے کہا کہ شاعر اعظم ہیں جعفریؔ کہنے لگے کہ آپ کی ہے ان سے دوستی میں نے کہا کہ یہ جو ہیں محشرؔ عنایتی کہنے لگے کہ آپ ہیں ان کے حمایتی میں نے کہا ضمیرؔ کے ہیومر میں فکر ہے بولے یہ کس کا نام لیا کس کا ذکر ہے میں نے کہا کہ یہ جو دلاور فگار ہیں بولے کہ وہ تو صرف ظرافت نگار ہیں میں نے کہا مزاح میں اک بات بھی تو ہے بولے کہ اس کے ساتھ خرافات بھی تو ہے میں نے کہا تو شاعر اعظم کوئی نہیں کہنے لگے کہ یہ بھی کوئی لازمی نہیں میں نے کہا تو کس کو میں شاعر بڑا کہوں کہنے لگے کہ میں بھی اسی کشمکش میں ہوں پایان کار ختم ہوا جب یہ تجزیہ میں نے کہا حضور تو بولے کہ شکریہ
دلاور فگار

دلاور فگار

View profile

دلاور فگار پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور مزاحیہ شاعر، نقاد اور ماہر تعلیم تھے۔ ان کا اصل نام دلاورحسین تھا۔دلاور فگار 8 جولائی، 1929ء کوبدایوں، میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں کے ’حمیدی صدیقی‘ خاندان میں ماسٹر شاکر حسین کے گھر آنکھ کھولی۔ والد مقامی اسکول میں استاد تھے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (معاشیات) کی اسناد بھی حاصل کیں۔ 1968ء میں کراچی ہجرت کر کے ائے۔لاور نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942ء میں کیا۔ انہیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی نامی اساتذہ کی رہنمائی ملی تھی۔21 جنوری 1998ء کو دلاور فگار کا انتقال ہو گیا۔[3] انھیں کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودہء خاک کیا گیا۔حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR