Skip to content
حبیب جالب حبیب جالب

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا
حبیب جالب

حبیب جالب

View profile

24 مارچ 1928ء میں قصبہ دسویا ضلع ہوشیار پور، صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انکی پیدائش عید الفطر کے دن ہوئی،اینگلو عربک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی، روزنامہ جنگ اور پھر لائلپور ٹیکسٹائل مل سے روزگار کے سلسلے میں منسلک ہوئے۔حبیب جالب (24 مارچ 1928 -13 مارچ 1993) بیسوی صدی کے ایک ناموراشتراکیت پسند انقلابی اردو شاعر تھے۔اپنی فعالیت کے ذریعے استبداد، ریاستی ظلم اورفوجی حکمرانی کا سخت مخالف رہے۔فوجی انقلابات کی مزاحمت کرنے کے وجہ سے کئی بار پابندِ سلاسل رہے۔ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ جالب کو 1960ء کے عشرے ميں جيل جانا پڑا اور وہاں انہوں نے کچھ اشعار لکھے ”سرِمقتل” کے عنوان سے جو حکومتِ وقت نے ضبط کر لیے ليکن انہوں نے لکھنا نہيں چھوڑا۔ جالب نے 1960ء اور 1970ء کے عشروں میں بہت خوبصورت شاعری کی جس ميں انہوں نے اس وقت کے مارشل لا کے خلاف بھرپور احتجاج کيا۔ن کا انتقال 13 مارچ 1993ء کو ہوا۔ لاہور کے قبرستان سبزہ زار میں دفن ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR