Skip to content
حبیب جالب حبیب جالب

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو کل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیں ہو جائے گی رات بسر خاموش رہو شاید چپ رہنے میں عزت رہ جائے چپ ہی بھلی اے اہل نظر خاموش رہو قدم قدم پر پہرے ہیں ان راہوں میں دار و رسن کا ہے یہ نگر خاموش رہو یوں بھی کہاں بے تابئ دل کم ہوتی ہے یوں بھی کہاں آرام مگر خاموش رہو شعر کی باتیں ختم ہوئیں اس عالم میں کیسا جوشؔ اور کس کا جگرؔ خاموش رہو
حبیب جالب

حبیب جالب

View profile

24 مارچ 1928ء میں قصبہ دسویا ضلع ہوشیار پور، صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انکی پیدائش عید الفطر کے دن ہوئی،اینگلو عربک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی، روزنامہ جنگ اور پھر لائلپور ٹیکسٹائل مل سے روزگار کے سلسلے میں منسلک ہوئے۔حبیب جالب (24 مارچ 1928 -13 مارچ 1993) بیسوی صدی کے ایک ناموراشتراکیت پسند انقلابی اردو شاعر تھے۔اپنی فعالیت کے ذریعے استبداد، ریاستی ظلم اورفوجی حکمرانی کا سخت مخالف رہے۔فوجی انقلابات کی مزاحمت کرنے کے وجہ سے کئی بار پابندِ سلاسل رہے۔ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ جالب کو 1960ء کے عشرے ميں جيل جانا پڑا اور وہاں انہوں نے کچھ اشعار لکھے ”سرِمقتل” کے عنوان سے جو حکومتِ وقت نے ضبط کر لیے ليکن انہوں نے لکھنا نہيں چھوڑا۔ جالب نے 1960ء اور 1970ء کے عشروں میں بہت خوبصورت شاعری کی جس ميں انہوں نے اس وقت کے مارشل لا کے خلاف بھرپور احتجاج کيا۔ن کا انتقال 13 مارچ 1993ء کو ہوا۔ لاہور کے قبرستان سبزہ زار میں دفن ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR