Skip to content
منیر نیازی منیر نیازی

پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھا

پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھا وہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشک حور تھا کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا شام فراق آئی تو دل ڈوبنے لگا ہم کو بھی اپنے آپ پہ کتنا غرور تھا چہرہ تھا یا صدا تھی کسی بھولی یاد کی آنکھیں تھیں اس کی یارو کہ دریائے نور تھا نکلا جو چاند آئی مہک تیز سی منیرؔ میرے سوا بھی باغ میں کوئی ضرور تھا
منیر نیازی

منیر نیازی

View profile

منیر نیازی (9 اپریل 1923ء - 26 دسمبر 2006ء) کا شمار اردو اور پنجابی کے اہم تر شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی ابتدائی شاعری قیام ساہیوال کے ایام کی یادگار ہے۔ منٹگمری (اب ساہیوال) میں انھوں نے ۔۔سات رنگ۔۔۔کے نام سے ایک ادبی رسالہ بھی جاری کیا۔ لاہور منتقلی کے بعد فلمی گانے بھی لکھے۔ منیر نیازی کی غزل میں حیرت اور مستی کی ملی جلی کیفیات نظر آتی ہیں۔ ان کے ہاں ماضی کے گمشدہ منظر اور رشتوں کے انحراف کا دکھ نمایاں ہے۔منیر نیازی ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔انہوں نے بی اے تک تعلیم پائی اور جنگ عظیم کے دوران میں ہندوستانی بحریہ میں بھرتی ہو گئے لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر گھر واپس آ گئے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور آ گئے۔ان کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان میں شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR