مصطفیٰ زیدی مصطفیٰ زیدی

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے اس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اس سے ہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے صوفی کا خدا اور تھا شاعر کا خدا اور تم ساتھ رہے ہو تو کرامات رہی ہے اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے ہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ہے ہم میں تو یہ حیرانی و شوریدگئ عشق بچپن ہی سے منجملۂ عادات رہی ہے اس سے بھی تو کچھ ربط جھلکتا ہے کہ وہ آنکھ بس ہم پہ عنایات میں محتاط رہی ہے الزام کسے دیں کہ ترے پیار میں ہم پر جو کچھ بھی رہی حسب روایات رہی ہے کچھ میرؔ کے حالات سے حاصل کرو عبرت لے دے کے اب اک عزت سادات رہی ہے
مصطفیٰ زیدی

مصطفیٰ زیدی

View profile →

سید مصطفٰی حسین زیدی کی پیدائش 10 اکتوبر 1930ء کو ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفٰی زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات کلیاتِ مصطفٰی زیدی کے نام سے شائع ہوئی۔مصطفیٰ زیدی اردو کے جدید شعرا میں ایک اہم نام۔ جن کی نظمیں داخل اور خارج کا حسین امتزاج ہیں۔ تیغ الہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے رہے۔وہ جب کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر تھے اسی وقت جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کے بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفٰی زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر کی گولیوں سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکار ہو گئے اور اس کا سبب بنی ایک خاتون شہناز گل، جس کے باعث مصطفٰی زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ان کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی کے ان کے دوست کے بنگلے سے ملی تھی۔ جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ بھی عدالت میں گیا تھا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحثیں ہوتی رہیں۔ عدالت نے طویل رد و کد کے بعد فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔ کمرے میں مردہ پائے گئے۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس تھی۔ ایک خوبرو عورت شہناز گل کو پو لیس نے حراست میں لے کر شامل تفتیش کیا۔ یہ خاتون وہی شہناز تھی جو ان کی چند معروف نظموں کا عنوان ہے۔ مصطفٰی زید ی کی مو ت کے بارے میں دو آرا سامنے آئیں۔ اول یہ کہ شہناز گل نے انہیں زہر دیا اور دوم یہ کہ نامور شاعر نے خودکشی کی تھی۔ لیکن اس پراسرار مو ت کی وجہ آج تک معلوم نہ ہو سکی۔ شہناز گل کو رہا کر دیا گیا۔ اس رات کو کیا ہو ا جب یہ نامور شاعر ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔ کوئی گواہ یا ایسی شہادت نہ مل سکی جس سے اس راز سے پر دہ اٹھ سکتا۔ اسی کا کہا ہوا شعر اس پر صادق آیا۔ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR