Skip to content
پروین شاکر پروین شاکر

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے مجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے چوم کر پھول کو آہستہ سے معجزہ باد صبا کرتی ہے کھول کر بند قبا گل کے ہوا آج خوشبو کو رہا کرتی ہے ابر برسے تو عنایت اس کی شاخ تو صرف دعا کرتی ہے زندگی پھر سے فضا میں روشن مشعل برگ حنا کرتی ہے ہم نے دیکھی ہے وہ اجلی ساعت رات جب شعر کہا کرتی ہے شب کی تنہائی میں اب تو اکثر گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے دل کو اس راہ پہ چلنا ہی نہیں جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے زندگی میری تھی لیکن اب تو تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ دل کا احوال کہا کرتی ہے مصحف دل پہ عجب رنگوں میں ایک تصویر بنا کرتی ہے بے نیاز کف دریا انگشت ریت پر نام لکھا کرتی ہے دیکھ تو آن کے چہرہ میرا اک نظر بھی تری کیا کرتی ہے زندگی بھر کی یہ تاخیر اپنی رنج ملنے کا سوا کرتی ہے شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے مسئلہ جب بھی چراغوں کا اٹھا فیصلہ صرف ہوا کرتی ہے مجھ سے بھی اس کا ہے ویسا ہی سلوک حال جو تیرا انا کرتی ہے دکھ ہوا کرتا ہے کچھ اور بیاں بات کچھ اور ہوا کرتی ہے
پروین شاکر

پروین شاکر

View profile

نومبر، 1952 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔ آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے۔ انہوں نے بچپن میں پروین کو کئی شعرا کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔انگریزی ادب اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی. شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔26 دسمبر 1994ء کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔ لواحقین میں ان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔تفصیلات کے مطابق پروین شاکر صبح اپنے گھر سے اپنے دفتر جارہی تھیں کہ ان کی کار ایک ٹریفک سگنل پر موڑ کاٹتے ہوئے سامنے سے آتی ہوئی ایک تیز رفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔پروین شاکر 26 دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئیں اور اسلام آباد ہی کے مرکزی قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں ۔ ان کے لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار کندہ ہیں یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے زخم ہنر کو حوصلہ لب کشائی دے شہر سخن سے روح کو وہ آشنائی دے آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستا سجھائی دے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR