Skip to content
اسماعیل میرٹھی اسماعیل میرٹھی

بارش کا پہلا قطرہ

گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی پر بوند ابھی نہیں پڑی تھی ہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہ ناچیز ہوں میں غریب قطرہ تر مجھ سے کسی کا لب نہ ہوگا میں اور کی گوں نہ آپ جوگا کیا کھیت کی میں بجھاؤں گا پیاس اپنا ہی کروں گا ستیاناس خالی ہاتھوں سے کیا سخاوت پھیکی باتوں میں کیا حلاوت کس برتے پہ میں کروں دلیری میں کون ہوں کیا بساط میری ہر قطرہ کے دل میں تھا یہی غم سرگوشیاں ہو رہی تھیں باہم کھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھی کچھ کچھ بجلی چمک رہی تھی اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور ہمت کے محیط کا شناور فیاض و جواد و نیک نیت بھڑکی اس کی رگ حمیت بولا للکار کر کہ آؤ! میرے پیچھے قدم بڑھاؤ کر گزرو جو ہو سکے کچھ احسان ڈالو مردہ زمین میں جان یارو! یہ ہچر مچر کہاں تک اپنی سی کرو بنے جہاں تک مل کر جو کرو گے جاں فشانی میدان پہ پھیر دوگے پانی کہتا ہوں یہ سب سے برملا میں آتے ہو تو آؤ لو چلا میں یہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ ''دشوار ہے جی پہ کھیل جانا'' ہر چند کہ تھا وہ بے بضاعت کی اس نے مگر بڑی شجاعت دیکھی جرأت جو اس سکھی کی دو چار نے اور پیروی کی پھر ایک کے بعد ایک لپکا قطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکا آخر قطروں کا بندھ گیا تار بارش لگی ہونے موسلا دھار پانی پانی ہوا بیاباں سیراب ہوئے چمن خیاباں تھی قحط سے پائمال خلقت اس مینہ سے ہوئی نہال خلقت جرأت قطرہ کی کر گئی کام باقی ہے جہاں میں آج تک نام اے صاحبو! قوم کی خبر لو قطروں کا سا اتفاق کر لو قطروں ہی سے ہوگی نہر جاری چل نکلیں گی کشتیاں تمہاری
اسماعیل میرٹھی

اسماعیل میرٹھی

View profile

اسماعیل میرٹھی 12نومبر 1844کو میرٹھ کے ایک محلے مشائخان میں پیدا ہوئے تھے۔ اب یہ علاقہ اسما عیل نگر کے نام سے معروف ہے۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی،12نومبر، 1844 عیسوی کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اب یہ محلہ اسمٰعیل نگر کے نام سے موسوم ہے۔ آپ کے والد کا نام شیخ پیر بخش تھا اور یہی آپ کے پہلے استاد بھی تھے۔ اس دور کے رواج کے مطابق مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ پہلے فارسی اور پھر دس برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی۔ 1857 کی جنگِ آزادی کی تحریک کے وقت 14سالہ اسمٰعیل نے محسوس کر لیا تھا کہ اس وقت اس مردہ قوم کو جگانے اور جگائے رکھے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اسی مقصد کے تحت انھوں نے دینی علوم کی تکمیل کے بعد جدیدعلوم سیکھنے پرتوجہ دی، انگریزی میں مہارت حاصل کی، انجنیئرنگ کا کورس پاس کیا، مگر ان علوم سے فراغت کے بعد اعلیٰ ملازمت حاصل کرنے کی بجائے تدریس کا معزز پیشی اختیار کیا تاکہ اس راہ سے قوم کو اپنے کھوئے ہوئے مقام تک واپس لے جانے کی کوشش کریں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسما عیل میرٹھی نے سررشتہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی جہاں ان کی ملاقات قلق میرٹھی سے ہوئی۔ قلق میرٹھی نے انگریزی کی پندرہ اخلاقی نظموں کا منظوم ترجمہ ’جواہر منظوم‘ کے نام سے کیا تھا۔ اس منظوم ترجمے نے اسما عیل میرٹھی کو بہت متاثر کیا، جس سے نہ صرف ان کی شاعری میں بلکہ جدید اردو نظم میں وہ انقلاب برپا ہوا کہ اردو ادب جدید نظم کے نادر خزانے سے مالامال ہو گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR