Skip to content
آج بادل خوب برسا اور برس کر کھل گیا گلستاں کی ڈالی ڈالی پتا پتا دھل گیا دیکھنا کیا دھل گیا سارے کا سارا آسماں اودا اودا نیلا نیلا پیارا پیارا آسماں ہٹ گیا بادل کا پردہ مل گئی کرنوں کو راہ سلطنت پر اپنی پھر خورشید نے ڈالی نگاہ دھوپ میں ہے گھاس پر پانی کے قطروں کی چمک مات ہے اس وقت موتی اور ہیرے کی دمک دے رہی ہے لطف کیا سرسبز پیڑوں کی قطار اور ہری شاخوں پہ ہے رنگین پھولوں کی بہار کیا پرندے پھر رہے ہیں چہچہاتے ہر طرف راگنی برسات کی خوش ہو کے گاتے ہر طرف دیکھنا وہ کیا اچنبھا ہے ارے وہ دیکھنا آسماں پر ان درختوں سے پرے وہ دیکھنا یہ کوئی جادو ہے یا سچ مچ ہے اک رنگیں کماں واہ وا کیسا بھلا لگتا ہے یہ پیارا سماں کس مصور نے بھرے ہیں رنگ ایسے خوش نما اس کا ہر اک رنگ ہے آنکھوں میں جیسے کھب گیا اک جگہ کیسے اکٹھے کر دیے ہیں سات رنگ شوخ ہیں ساتوں کے ساتوں اک نہیں ہے مات رنگ ہے یہ قدرت کا نظارہ اور کیا کہئے اسے بس یہی جی چاہتا ہے دیکھتے رہئے اسے ننھے ننھے جمع تھے پانی کے کچھ قطرے وہاں ان پہ ڈالا عکس سورج نے بنا دی یہ کماں دیکھو دیکھو اب مٹی جاتی ہے وہ پیاری دھنک دیکھتے ہی دیکھتے گم ہو گئی ساری دھنک پھر ہوا میں مل گئی وہ سب کی سب کچھ بھی نہیں آنکھیں مل مل کر نہ دیکھو آؤ اب کچھ بھی نہیں
حفیظ جالندھری

حفیظ جالندھری

View profile

ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنھوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی۔ ملکہ پکھراج نے ان کی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو گا کر شہرت دی۔حفیظ جالندھری ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔ حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے۔ تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے، جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیاء کیا، جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔ حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے، اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حفیظ جالندھری نے یہ خوب صورت قومی ترانہ احمد جی چھاگلہ کی دھن پر تخلیق کیا تھا اور حکومت پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔حفیظ جالندھری کی شاعری کی خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے اس لیے انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کے پیکر پر پورے اترتے ہیں۔ غنائیت کا سبب ان کی گیت نگاری بھی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ابھی تو میں جوان ہوں کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیا اور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR