Skip to content
کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیں اک ذرا انسان میں چلنے کی ہمت چاہئے مل نہیں سکتی نکموں کو زمانے میں مراد کامیابی کی جو خواہش ہو تو محنت چاہئے خاک محنت ہو سکے گی ہو نہ جب ہاتھوں میں زور تندرستی کے لئے ورزش کی عادت چاہئے خوش مزاجی سا زمانے میں کوئی جادو نہیں ہر کوئی تحسیں کہے ایسی طبیعت چاہئے ہنس کے ملنا رام کر لینا ہر ہر انسان کو سب سے میٹھا بولنے کی تم کو عادت چاہئے ایک ہی اللہ کے بندے ہیں سب چھوٹے بڑے اپنے ہم جنسوں سے دنیا میں محبت چاہئے ہے برائی ہی برائی کام کل پر چھوڑنا آج سب کچھ کر کے اٹھو گر فراغت چاہئے جو بروں کے پاس بیٹھے گا برا ہو جائے گا نیک ہونے کے لئے نیکوں کی صحبت چاہئے ساتھ والے دیکھنا تم سے نہ بڑھ جائیں کہیں جوش ایسا چاہئے ایسی حمیت چاہئے حکمراں ہو کوئی اپنا ہو یا بیگانہ دی خدا نے جس کو عزت اس کی عزت چاہئے دیکھ کر چلنا کچل جائے نہ چیونٹی راہ میں آدمی کو بے زبانوں سے بھی الفت چاہئے ہے اسی میں بھید عزت کا اگر سمجھے کوئی چھوٹے بچوں کو بزرگوں کی اطاعت چاہئے علم کہتے ہیں جسے سب سے بڑی دولت ہے یہ ڈھونڈ لو اس کو اگر دنیا میں عزت چاہئے سب برا کہتے ہیں لڑنے کو بری عادت ہے یہ ساتھ کے لڑکے جو ہوں ان سے رفاقت چاہئے ہوں جماعت میں شرارت کرنے والے بھی اگر دور کی ان سے فقط صاحب سلامت چاہئے دیکھنا آپس میں پھر نفرت نہ ہو جائے کہیں اس قدر حد سے زیادہ بھی نہ ملت چاہئے باپ دادا کی بڑائی پہ نہ اترانا کبھی آدمی کو اپنے کاموں کی شرافت چاہئے گر کتابیں ہو گئیں میلی تو کیا پڑھنے کا لطف کام کی چیزیں ہیں جو ان کی حفاظت چاہئے
علامہ محمد اقبال

علامہ محمد اقبال

View profile

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء – وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔[حوالہ درکار] بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔25 دسمبر 1905ء کو علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لے لیا۔ چونکہ کالج میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے لیے گئے تھے اس لیے ان کے لیے عام طالب علموں کی طرح ہوسٹل میں رہنے کی پابندی نہ تھی۔ قیام کا بندوبست کالج سے باہر کیا۔ ابھی یہاں آئے ہوئے ایک مہینے سے کچھ اوپر ہوا تھا کہ بیرسٹری کے لیے لنکنز اِن میں داخلہ لے لیا۔ اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔علامہ محمد اقبال 21 اپریل 1938ء بمطابق 20، صفر المصفر 1357ء کو فجر کے وقت اپنے گھر جاوید منزل میں طویل علالت کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔علامہ اقبال کا مزار لاہور میں شاہی مسجد کے ساتھ واقع ہے۔مزار تکمیل کے آخری مراحل میں تھا کہ 13 جون 1949ء کو اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں لے لیا گیا اور اُس سے اگلے سال 1950ء میں (علامہ اقبال کے انتقال کے تقریباً 12 سال بعد) کوئی ساڑھے چار سال کے عرصے میں مزار کی تعمیر مکمل ہوئی۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR