Skip to content
داغ دہلوی داغ دہلوی

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں تیور ترے اے رشک قمر دیکھ رہے ہیں ہم شام سے آثار سحر دیکھ رہے ہیں میرا دل گم گشتہ جو ڈھونڈا نہیں ملتا وہ اپنا دہن اپنی کمر دیکھ رہے ہیں کوئی تو نکل آئے گا سر باز محبت دل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں ہے مجمع اغیار کہ ہنگامۂ محشر کیا سیر مرے دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں اب اے نگہ شوق نہ رہ جائے تمنا اس وقت ادھر سے وہ ادھر دیکھ رہے ہیں ہر چند کہ ہر روز کی رنجش ہے قیامت ہم کوئی دن اس کو بھی مگر دیکھ رہے ہیں آمد ہے کسی کی کہ گیا کوئی ادھر سے کیوں سب طرف راہ گزر دیکھ رہے ہیں تکرار تجلی نے ترے جلوے میں کیوں کی حیرت زدہ سب اہل نظر دیکھ رہے ہیں نیرنگ ہے ایک ایک ترا دید کے قابل ہم اے فلک شعبدہ گر دیکھ رہے ہیں کب تک ہے تمہارا سخن تلخ گوارا اس زہر میں کتنا ہے اثر دیکھ رہے ہیں کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں اب تک تو جو قسمت نے دکھایا وہی دیکھا آئندہ ہو کیا نفع و ضرر دیکھ رہے ہیں پہلے تو سنا کرتے تھے عاشق کی مصیبت اب آنکھ سے وہ آٹھ پہر دیکھ رہے ہیں کیوں کفر ہے دیدار صنم حضرت واعظ اللہ دکھاتا ہے بشر دیکھ رہے ہیں خط غیر کا پڑھتے تھے جو ٹوکا تو وہ بولے اخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں پڑھ پڑھ کے وہ دم کرتے ہیں کچھ ہاتھ پر اپنے ہنس ہنس کے مرے زخم جگر دیکھ رہے ہیں میں داغؔ ہوں مرتا ہوں ادھر دیکھیے مجھ کو منہ پھیر کے یہ آپ کدھر دیکھ رہے ہیں
داغ دہلوی

داغ دہلوی

View profile

نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقینا بہت بڑا حصہ ہے۔ غدر کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں قیام پزیر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انہیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔ نواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ۔ فصیح الملک، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ 1905ء میں فالج کی وجہ سے حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR