Skip to content
داغ دہلوی داغ دہلوی

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تھا آج وہ مزاج نہیں اس تلون کا کچھ علاج نہیں آئنہ دیکھتے ہی اترائے پھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں لے کے دل رکھ لو کام آئے گا گو ابھی تم کو احتیاج نہیں ہو سکیں ہم مزاج داں کیونکر ہم کو ملتا ترا مزاج نہیں چپ لگی لعل جاں فزا کو ترے اس مسیحا کا کچھ علاج نہیں دل بے مدعا خدا نے دیا اب کسی شے کی احتیاج نہیں کھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرا درہم داغ کا رواج نہیں بے نیازی کی شان کہتی ہے بندگی کی کچھ احتیاج نہیں دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں عشق ہے پادشاہ عالم گیر گرچہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں درد فرقت کی گو دوا ہے وصال اس کے قابل بھی ہر مزاج نہیں یاس نے کیا بجھا دیا دل کو کہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں ہم تو سیرت پسند عاشق ہیں خوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت میں اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں صبر بھی دل کو داغؔ دے لیں گے ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں
داغ دہلوی

داغ دہلوی

View profile

نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقینا بہت بڑا حصہ ہے۔ غدر کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں قیام پزیر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انہیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔ نواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ۔ فصیح الملک، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ 1905ء میں فالج کی وجہ سے حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR