Skip to content
داغ دہلوی داغ دہلوی

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیا اگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیا شب وصال بھی میں نے تو انتظار کیا تجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا یہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا کہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالم بہ تنگ آئے تو حال دل آشکار کیا تڑپ پھر اے دل ناداں کہ غیر کہتے ہیں اخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیا ملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینی تمام رات دل مضطرب کو پیار کیا بھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو راز نہاں چھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیا نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا ہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتا مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا ہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجر شب وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیا رقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہے وہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیا زبان خار سے نکلی صدائے بسم اللہ جنوں کو جب سر شوریدہ پر سوار کیا تری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا غضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکہ میں ہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیا ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا جب ان کو طرز ستم آ گئے تو ہوش آیا برا ہو دل کا برے وقت ہشیار کیا فسانۂ شب غم ان کو اک کہانی تھی کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا اسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہی تمام طرۂ طرار تار تار کیا کچھ آ گئی داور محشر سے ہے امید مجھے کچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیا کسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھی کہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیا فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے اخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا بنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہ جو چہرہ داغؔ سیہ رو نے آشکار کیا
داغ دہلوی

داغ دہلوی

View profile

نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقینا بہت بڑا حصہ ہے۔ غدر کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں قیام پزیر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انہیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔ نواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ۔ فصیح الملک، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ 1905ء میں فالج کی وجہ سے حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR