Skip to content
داغ دہلوی داغ دہلوی

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا اپنے دل کو بھی بتاؤں نہ ٹھکانا تیرا سب نے جانا جو پتا ایک نے جانا تیرا تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہے کس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کو شام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا یہ سمجھ کر تجھے اے موت لگا رکھا ہے کام آتا ہے برے وقت میں آنا تیرا اے دل شیفتہ میں آگ لگانے والے رنگ لایا ہے یہ لاکھے کا جمانا تیرا تو خدا تو نہیں اے ناصح ناداں میرا کیا خطا کی جو کہا میں نے نہ مانا تیرا رنج کیا وصل عدو کا جو تعلق ہی نہیں مجھ کو واللہ ہنساتا ہے رلانا تیرا کعبہ و دیر میں یا چشم و دل عاشق میں انہیں دو چار گھروں میں ہے ٹھکانا تیرا ترک عادت سے مجھے نیند نہیں آنے کی کہیں نیچا نہ ہو اے گور سرہانا تیرا میں جو کہتا ہوں اٹھائے ہیں بہت رنج فراق وہ یہ کہتے ہیں بڑا دل ہے توانا تیرا بزم دشمن سے تجھے کون اٹھا سکتا ہے اک قیامت کا اٹھانا ہے اٹھانا تیرا اپنی آنکھوں میں ابھی کوند گئی بجلی سی ہم نہ سمجھے کہ یہ آنا ہے کہ جانا تیرا یوں تو کیا آئے گا تو فرط نزاکت سے یہاں سخت دشوار ہے دھوکے میں بھی آنا تیرا داغؔ کو یوں وہ مٹاتے ہیں یہ فرماتے ہیں تو بدل ڈال ہوا نام پرانا تیرا
داغ دہلوی

داغ دہلوی

View profile

نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقینا بہت بڑا حصہ ہے۔ غدر کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں قیام پزیر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انہیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔ نواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ۔ فصیح الملک، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ 1905ء میں فالج کی وجہ سے حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR