علامہ محمد اقبال
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر
چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر
تو جو بجلی ہے تو يہ چشمک پنہاں کب تک
بے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر
نفس گرم کی تاثير ہے اعجاز حيات
تيرے سينے ميں اگر ہے تو مسيحائی کر
کب تلک طور پہ دريوزہ گرمی مثلِ کليم
اپني ہستی سے عياں شعلہ سينائی کر
ہو تری خاک کے ہر ذرے سے تعمير حرم
دل کو بيگانہ انداز کليسائی کر
اس گلستاں ميں نہيں حد سے گزرنا اچھا
ناز بھي کر تو بہ اندازئہ رعنائی کر
پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے
پھر جہاں ميں ہوس شوکت دارائی کر
مل ہي جائے گي کبھی منزل ليلیٰ اقبال!
کوئی دن اور ابھي باديہ پيمائی کر