Skip to content
جون ایلیا جون ایلیا

ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں

ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا تجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں اک حسن بے مثال کی تمثیل کے لیے پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں کیا مل گیا ضمیر ہنر بیچ کر مجھے اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں روحوں کے پردہ پوش گناہوں سے بے خبر جسموں کی نیکیاں ہی گناتا رہا ہوں میں تجھ کو خبر نہیں کہ ترا کرب دیکھ کر اکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں اک سطر بھی کبھی نہ لکھی میں نے تیرے نام پاگل تجھی کو یاد بھی آتا رہا ہوں میں جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباب اس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا ذروں کو آفتاب بناتا رہا ہوں میں بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آگہی تیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں
جون ایلیا

جون ایلیا

View profile

جون ایلیا (14 دسمبر، 1931ء – 8 نومبر، 2002ء) برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلیٰ مہارت حاصل تھی۔اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور پزیرائی نصیب ہوئی۔جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ بقول اسلم فرخی صاحب "جناب جون ایلیا ہمارے عہد کے بڑے خوش گو اور خوش فکر شاعر ہیں۔ ان کے یہاں جذباتی وفور کے ساتھ ساتھ گہرے شعور کی جو پرچھائیاں ملتی ہیں ان کی وجہ سے جناب جون ایلیا کی شاعری بڑی قابل قدر اور اہم ہوگئی ہے۔ وہ تاریخ اور فلسفے کے بڑے زیرک طالب علم ہیں، علوم پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ زندگی اور معاشرے کے بارے میں ان کا رد عمل بڑا حقیقت پسندانہ اور مثبت ہے۔ اگرچہ فنون لطیفہ میں وراثت کا کوئی تصور نہیں تاہم ہماری شاعری میں اس کلیے کے جو استثنا نظر آتے ہیں ان میں جناب جون ایلیا بھی شامل ہیں۔ شاعری اور ادب انہیں ورثے میں ملے ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ انہوں نے ادب و شعر کی آغوش میں آنکھیں کھولی ہیں اور ادب و شعر کی گود میں پرورش پائی ہے لیکن جو کچھ انہوں نے بزرگوں سے حاصل کیا اسے اپنی انفرادیت کی چھاپ اور اپنے ذاتی رنگ و آہنگ سے بہت زیادہ پرکشش اور اثر انگیز بنادیا ہے۔ جناب جون ایلیا غزل اور نظم دونوں پر یکساں دسترس رکھتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں رندانہ سرخوشی، تازگی اور ندرت خیال ہے۔ نظمیں گہری فکر کی حامل اور پر اثر ہیں۔ ان کے کلام کی جس خصوصیت نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ رندانہ جوش و خروش کی تہ سے ابھرنے والی فکر ہے جو قاری کے دل و دماغ دونوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے"۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR