Skip to content
جون ایلیا جون ایلیا

ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں

ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیں کوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں ہے کچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کچھ اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے کہیں تجھ کو کیا ہو گیا کہ چیزوں کو کہیں رکھتا ہے ڈھونڈھتا ہے کہیں جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھا وہ یہاں سے چلا گیا ہے کہیں آج شمشان کی سی بو ہے یہاں کیا کوئی جسم جل رہا ہے کہیں ہم کسی کے نہیں جہاں کے سوا ایسی وہ خاص بات کیا ہے کہیں تو مجھے ڈھونڈ میں تجھے ڈھونڈوں کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں کتنی وحشت ہے درمیان ہجوم جس کو دیکھو گیا ہوا ہے کہیں میں تو اب شہر میں کہیں بھی نہیں کیا مرا نام بھی لکھا ہے کہیں اسی کمرے سے کوئی ہو کے وداع اسی کمرے میں چھپ گیا ہے کہیں مل کے ہر شخص سے ہوا محسوس مجھ سے یہ شخص مل چکا ہے کہیں
جون ایلیا

جون ایلیا

View profile

جون ایلیا (14 دسمبر، 1931ء – 8 نومبر، 2002ء) برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلیٰ مہارت حاصل تھی۔اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور پزیرائی نصیب ہوئی۔جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ بقول اسلم فرخی صاحب "جناب جون ایلیا ہمارے عہد کے بڑے خوش گو اور خوش فکر شاعر ہیں۔ ان کے یہاں جذباتی وفور کے ساتھ ساتھ گہرے شعور کی جو پرچھائیاں ملتی ہیں ان کی وجہ سے جناب جون ایلیا کی شاعری بڑی قابل قدر اور اہم ہوگئی ہے۔ وہ تاریخ اور فلسفے کے بڑے زیرک طالب علم ہیں، علوم پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ زندگی اور معاشرے کے بارے میں ان کا رد عمل بڑا حقیقت پسندانہ اور مثبت ہے۔ اگرچہ فنون لطیفہ میں وراثت کا کوئی تصور نہیں تاہم ہماری شاعری میں اس کلیے کے جو استثنا نظر آتے ہیں ان میں جناب جون ایلیا بھی شامل ہیں۔ شاعری اور ادب انہیں ورثے میں ملے ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ انہوں نے ادب و شعر کی آغوش میں آنکھیں کھولی ہیں اور ادب و شعر کی گود میں پرورش پائی ہے لیکن جو کچھ انہوں نے بزرگوں سے حاصل کیا اسے اپنی انفرادیت کی چھاپ اور اپنے ذاتی رنگ و آہنگ سے بہت زیادہ پرکشش اور اثر انگیز بنادیا ہے۔ جناب جون ایلیا غزل اور نظم دونوں پر یکساں دسترس رکھتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں رندانہ سرخوشی، تازگی اور ندرت خیال ہے۔ نظمیں گہری فکر کی حامل اور پر اثر ہیں۔ ان کے کلام کی جس خصوصیت نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ رندانہ جوش و خروش کی تہ سے ابھرنے والی فکر ہے جو قاری کے دل و دماغ دونوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے"۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR