Skip to content
جون ایلیا جون ایلیا

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیے یعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیے حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی اس کی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماں یاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی اس کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن میں اور پھر اس کے بدن کے واسطے ایک قبا بھی سی گئی مینا بہ مینا مے بہ مے جام بہ جام جم بہ جم ناف پیالے کی ترے یاد عجب سہی گئی کہنی ہے مجھ کو ایک بات آپ سے یعنی آپ سے آپ کے شہر وصل میں لذت ہجر بھی گئی صحن خیال یار میں کی نہ بسر شب فراق جب سے وہ چاندنا گیا جب سے وہ چاندنی گئی
جون ایلیا

جون ایلیا

View profile

جون ایلیا (14 دسمبر، 1931ء – 8 نومبر، 2002ء) برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلیٰ مہارت حاصل تھی۔اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور پزیرائی نصیب ہوئی۔جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ بقول اسلم فرخی صاحب "جناب جون ایلیا ہمارے عہد کے بڑے خوش گو اور خوش فکر شاعر ہیں۔ ان کے یہاں جذباتی وفور کے ساتھ ساتھ گہرے شعور کی جو پرچھائیاں ملتی ہیں ان کی وجہ سے جناب جون ایلیا کی شاعری بڑی قابل قدر اور اہم ہوگئی ہے۔ وہ تاریخ اور فلسفے کے بڑے زیرک طالب علم ہیں، علوم پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ زندگی اور معاشرے کے بارے میں ان کا رد عمل بڑا حقیقت پسندانہ اور مثبت ہے۔ اگرچہ فنون لطیفہ میں وراثت کا کوئی تصور نہیں تاہم ہماری شاعری میں اس کلیے کے جو استثنا نظر آتے ہیں ان میں جناب جون ایلیا بھی شامل ہیں۔ شاعری اور ادب انہیں ورثے میں ملے ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ انہوں نے ادب و شعر کی آغوش میں آنکھیں کھولی ہیں اور ادب و شعر کی گود میں پرورش پائی ہے لیکن جو کچھ انہوں نے بزرگوں سے حاصل کیا اسے اپنی انفرادیت کی چھاپ اور اپنے ذاتی رنگ و آہنگ سے بہت زیادہ پرکشش اور اثر انگیز بنادیا ہے۔ جناب جون ایلیا غزل اور نظم دونوں پر یکساں دسترس رکھتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں رندانہ سرخوشی، تازگی اور ندرت خیال ہے۔ نظمیں گہری فکر کی حامل اور پر اثر ہیں۔ ان کے کلام کی جس خصوصیت نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ رندانہ جوش و خروش کی تہ سے ابھرنے والی فکر ہے جو قاری کے دل و دماغ دونوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے"۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR