میر تقی میر
راہ آنسو کی کب تلک تکیے
راہ آنسو کی کب تلک تکیے
خون دل ہی کا اب مزہ چکھیے
آتش غم میں جل رہے ہیں ہما
چشم مجھ استخواں پہ مت رکھیے
سو گیا وہ سمجھ کے افسانہ
درد دل اب کہاں تلک بکیے
بید سا کانپتا تھا مرتے وقت
میر کو رکھیو مجنوں کے تکیے