میر تقی میر
مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے
مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے
ہوا ہوں زعفراں کا کھیت تیرے عشق میں پیارے
عرق گرتا ہے تیری زلف سے اور دل سہمتا ہے
کہ شب تاریک ہے اور ٹوٹتے ہیں دم بدم تارے