میر تقی میر
وصل کی جب سے گئی ہے چھوڑ دلداری مجھے
وصل کی جب سے گئی ہے چھوڑ دلداری مجھے
ہجر کی کرنی پڑی ہے نازبرداری مجھے
میں گریباں پھاڑتا ہوں وہ سلا دیتا ہے میر
خوش نہیں آتی نصیحت گر کی غم خواری مجھے