میر تقی میر
سن کے صفت ہم سے خرابات کی
سن کے صفت ہم سے خرابات کی
عقل گئی زاہد بدذات کی
جی میں ہمارے بھی تھا پیویں شراب
پیرمغاں تونے کرامات کی
کوئی رمق جان تھی تن میں مرے
سو بھی ترے غم کی مدارات کی
یاد میں تجھ زلف کی گریہ سے شوخ
روز مرا رات ہے برسات کی