میر تقی میر
نہ رہ دنیا میں دلجمعی سے اے انساں جو دانا ہے
نہ رہ دنیا میں دلجمعی سے اے انساں جو دانا ہے
سفر کا بھی رہے خطرہ کہ اس منزل سے جانا ہے
چلے آتے تھے جو آناً فآناً دیکھ حسرت کو
وے آنسو بھی لگے آنکھیں چرانے کیا زمانہ ہے