میر تقی میر میر تقی میر

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے ووہیں آئے گئے اٹھے نقاب جہان سے یارب جس سے تکلف بیچ میں ہے جب نکلے اس راہ سے ہوکر منھ تم ہم سے چھپائے گئے کب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کی تم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو ووہیں لگائے گئے صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس کیا کیا فتنے سرجوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے اللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہم آنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے آگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سا یعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہے کشتے اس کی تیغ ستم کے گورتئیں کب لائے گئے خضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیں کھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے مرنے سے کیا میر جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریے جی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR