میر تقی میر میر تقی میر

بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے

بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے داغ فراق و حسرت وصل آرزوے دید کیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے ہم خامشوں کا ذکر تھا شب اس کی بزم میں نکلا نہ حرف خیر کسو کی زبان سے آب خضر سے بھی نہ گئی سوزش جگر کیا جانیے یہ آگ ہے کس دودمان سے جز عشق جنگ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہم اس قصے کی کتاب میں اس داستان سے آنے کا اس چمن میں سبب بے کلی ہوئی جوں برق ہم تڑپ کے گرے آشیان سے اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیں القصہ خوش گذرتی ہے اس بدگمان سے کینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی داد میں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے داغوں سے ہے چمن جگر میر دہر میں ان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR