میر تقی میر میر تقی میر

جاں گداز اتنی کہاں آوازعود و چنگ ہے

جاں گداز اتنی کہاں آوازعود و چنگ ہے دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے رو و خال و زلف ہی ہیں سنبل و سبزہ و گل آنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نیرنگ ہے بے ستوں کھودے سے کیا آخر ہوئے سب کار عشق بعد ازاں اے کوہکن سر ہے ترا اور سنگ ہے آہ ان خوش قامتوں کو کیونکے بر میں لایئے جن کے ہاتھوں سے قیامت پر بھی عرصہ تنگ ہے عشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایک ناخلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے چشم کم سے دیکھ مت قمری تو اس خوش قد کو ٹک آہ بھی سرو گلستان شکست رنگ ہے ہم سے تو جایا نہیں جاتا کہ یکسر دل میں واں دو قدم اس کی گلی کی راہ سو فرسنگ ہے ایک بوسے پر تو کی ہے صلح پر اے زود رنج تجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے پائوں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دے پیش رفت آگے ہمارے کب یہ عذرلنگ ہے فکر کو نازک خیالوں کے کہاں پہنچے ہیں یار ورنہ ہر مصرع یہاں معشوق شوخ و شنگ ہے سرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئے شعر یہ کم فہم سمجھے ہیں خیال بنگ ہے صبر بھی کریے بلا پر میر صاحب جی کبھو جب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR