میر تقی میر میر تقی میر

کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے

کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے دن گذر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پر بارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جان عمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چال اور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیں شیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے ہے موذن جو بڑا مرغ مصلی اس کی مستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے پائوں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھی مرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے ہر سحر درپئے آرام مے آشاماں ہے مکر و طامات کی اک گھات چلی جاتی ہے ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میر یوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR