میر تقی میر میر تقی میر

آتش کے شعلے سر سے ہمارے گذر گئے

آتش کے شعلے سر سے ہمارے گذر گئے بس اے تب فراق کہ گرمی میں مر گئے منزل نہ کر جہاں کو کہ ہم نے سفر سے آہ جن کا کیا سراغ سنا وے گذر گئے مشت نمک سے بھی تو کبھو یاد کر ہمیں اب داغ کھاتے کھاتے فلک جی تو بھر گئے ناصح نہ روویں کیونکے محبت کے جی کو ہم اے خانماں خراب ہمارے تو گھر گئے تلوار آپ کھینچیے حاضر ہے یاں بھی سر بس عاشقی کی ہم نے جو مرنے سے ڈر گئے کر دیں گے آسمان و زمیں ایک حشر کو اس معرکے میں یارجی ہم بھی اگر گئے یہ راہ و رسم دل شدگاں گفتنی نہیں جانے دے میر صاحب و قبلہ جدھر گئے روز وداع اس کی گلی تک تھے ہم بھی ساتھ جب دردمند ہم کو وے معلوم کر گئے کر یک نگاہ یاس کی ٹپ دے سے رو دیا پھر ہم ادھر کو آئے میاں وے ادھر گئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR