میر تقی میر میر تقی میر

خورشید تیرے چہرے کے آگو نہ آسکے

خورشید تیرے چہرے کے آگو نہ آسکے اس کو جگر بھی شرط ہے جو تاب لا سکے ہم گرم رو ہیں راہ فنا کے شرر صفت ایسے نہ جائیں گے کہ کوئی کھوج پا سکے غافل نہ رہیو آہ ضعیفوں سے سرکشاں طاقت ہے اس کو یہ کہ جہاں کو جلا سکے میرا جو بس چلے تو منادی کیا کروں تا اب سے دل نہ کوئی کسو سے لگا سکے تدبیر جیب پارہ نہیں کرتی فائدہ ناصح جگر کا چاک سلا جو سلا سکے اس کا کمال چرخ پہ سر کھینچتا نہیں اپنے تئیں جو خاک میں کوئی ملا سکے یہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ تو ہے بوالہوس کھانا تجھے حرام ہے جو زخم کھا سکے اس رشک آفتاب کو دیکھے تو شرم سے ماہ فلک نہ شہر میں منھ کو دکھا سکے کیا دل فریب جاے ہے آفاق ہم نشیں دو دن کو یاں جو آئے سو برسوں نہ جا سکے مشعر ہے اس پہ مردن دشوار رفتگاں یعنی جہاں سے دل کو نہ آساں اٹھا سکے بدلوں گا اس غزل کے بھی میں قافیے کو میر پھر فکر گو نہ عہدے سے اس کے بر آسکے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR