میر تقی میر میر تقی میر

نازچمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے

نازچمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے ٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے گر اس چمن میں وہ بھی اک ہی لب ودہاں ہے لیکن سخن کا تجھ سے غنچے کو منھ کہاں ہے ہنگام جلوہ اس کے مشکل ہے ٹھہرے رہنا چتون ہے دل کی آفت چشمک بلاے جاں ہے پتھر سے توڑنے کے قابل ہے آرسی تو پر کیا کریں کہ پیارے منھ تیرا درمیاں ہے باغ و بہار ہے وہ میں کشت زعفراں ہوں جو لطف اک ادھر ہے تو یاں بھی اک سماں ہے ہر چند ضبط کریے چھپتا ہے عشق کوئی گذرے ہے دل پہ جو کچھ چہرے ہی سے عیاں ہے اس فن میں کوئی بے تہ کیا ہو مرا معارض اول تو میں سند ہوں پھر یہ مری زباں ہے عالم میں آب و گل کا ٹھہرائو کس طرح ہو گر خاک ہے اڑے ہے ورآب ہے رواں ہے چرچا رہے گا اس کا تاحشر مے کشاں میں خونریزی کی ہماری رنگین داستاں ہے ازخویش رفتہ اس بن رہتا ہے میر اکثر کرتے ہو بات کس سے وہ آپ میں کہاں ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR