میر تقی میر میر تقی میر

کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سے

کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سے کیا کیا نہ ابر آکر یاں زور زور برسے وحشت سے میری یارو خاطر نہ جمع رکھیو پھر آوے یا نہ آوے نوپر اٹھا جو گھر سے اب جوں سر شک ان سے پھرنے کی چشم مت رکھ جو خاک میں ملے ہیں گر کر تری نظر سے دیدار خواہ اس کے کم ہوں تو شور کم ہو ہر صبح اک قیامت اٹھتی ہے اس کے در سے داغ ایک ہو جلا بھی خوں ایک ہو بہا بھی اب بحث کیا ہے دل سے کیا گفتگو جگر سے دل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختے کے بہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے انجام کار بلبل دیکھا ہم اپنی آنکھوں آوارہ تھے چمن میں دو چار ٹوٹے پر سے بے طاقتی نے دل کی آخر کو مار رکھا آفت ہمارے جی کی آئی ہمارے گھر سے دلکش یہ منزل آخر دیکھا تو آہ نکلی سب یار جاچکے تھے آئے جو ہم سفر سے آوارہ میر شاید واں خاک ہو گیا ہے یک گرد اٹھ چلے ہے گاہ اس کی رہگذر سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR