میر تقی میر میر تقی میر

دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگائو ہے

دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگائو ہے ٹک آپ بھی تو آیئے یاں زور بائو ہے اٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ جور سے ناحق کشی کہاں تئیں یہ کیا سبھائو ہے باغ نظر ہے چشم کے منظر کا سب جہاں ٹک ٹھہرو یاں تو جانو کہ کیسا دکھائو ہے تقریب ہم نے ڈالی ہے اس سے جوئے کی اب جو بن پڑے ہے ٹک تو ہمارا ہی دائو ہے ٹپکا کرے ہے آنکھ سے لوہو ہی روز و شب چہرے پہ میرے چشم ہے یا کوئی گھائو ہے ضبط سرشک خونیں سے جی کیونکے شاد ہو اب دل کی طرف لوہو کا سارا بہائو ہے اب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئی لاکھوں میں ایک دو کا کہیں کچھ بنائو ہے چھاتی کے میری سارے نمودار ہیں یہ زخم پردہ رہا ہے کون سا اب کیا چھپائو ہے عاشق کہیں جو ہو گے تو جانوگے قدر میر اب تو کسی کے چاہنے کا تم کو چائو ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR