میر تقی میر میر تقی میر

حصول کام کا دلخواہ یاں ہوا بھی ہے

حصول کام کا دلخواہ یاں ہوا بھی ہے سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یارو کسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیر صنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب لگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوں نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکے جراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیے ہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن کہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے غم فراق ہے دنبالہ گرد عیش وصال فقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دینا جو کچھ بھی پایئے تجھ کو تو آشنا بھی ہے جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑو کسو کے زخم کو تونے کبھو سیا بھی ہے گذار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوں کہ اس دیار میں میر شکستہ پا بھی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR