میر تقی میر
اچنبھا ہے اگر چپکا رہوں مجھ پر عتاب آوے
اچنبھا ہے اگر چپکا رہوں مجھ پر عتاب آوے
وگر قصہ کہوں اپنا تو سنتے اس کو خواب آوے
بھرا ہے دل مرا جام لبالب کی طرح ساقی
گلے لگ خوب روئوں میں جو میناے شراب آوے
بغل پروردئہ طوفاں ہوں میں یہ موج ہے میری
بیاباں میں اگر روئوں تو شہروں میں بھی آب آوے
لپیٹا ہے دل سوزاں کو اپنے میر نے خط میں
الٰہی نامہ بر کو اس کے لے جانے کی تاب آوے