میر تقی میر میر تقی میر

کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے

کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے الٰہی اس بلاے ناگہاں پر بھی بلا آوے رکا جاتا ہے جی اندر ہی اندر آج گرمی سے بلا سے چاک ہی ہوجاوے سینہ ٹک ہوا آوے ترا آنا ہی اب مرکوز ہے ہم کو دم آخر یہ جی صدقے کیا تھا پھر نہ آوے تن میں یا آوے یہ رسم آمد و رفت دیار عشق تازہ ہے ہنسی وہ جائے میری اور رونا یوں چلا آوے اسیری نے چمن سے میری دل گرمی کو دھو ڈالا وگرنہ برق جاکر آشیاں میرا جلا آوے امید رحم ان سے سخت نافہمی ہے عاشق کی یہ بت سنگیں دلی اپنی نہ چھوڑیں گر خدا آوے یہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہو تو زاہد پیر نابالغ ہے بے تہ تجھ کو کیا آوے ہمارے دل میں آنے سے تکلف غم کو بیجا ہے یہ دولت خانہ ہے اس کا وہ جب چاہے چلا آوے برنگ بوے غنچہ عمر اک ہی رنگ میں گذرے میسر میر صاحب گر دل بے مدعا آوے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR