میر تقی میر میر تقی میر

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے ہوتا نہیں ہے اس لب نو خط پہ کوئی سبز عیسیٰ و خضر کیا سبھی یک بار مر گئے یوں کانوں کان گل نے نہ جانا چمن میں آہ سر کو پٹک کے ہم پس دیوار مر گئے صد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیں گویا متاع دل کے خریدار مر گئے مجنوں نہ دشت میں ہے نہ فرہاد کوہ میں تھا جن سے لطف زندگی وے یار مر گئے گر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیر تو وے ہی جی گئے جو گرفتار مر گئے افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں لگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے تجھ سے دو چار ہونے کی حسرت کے مبتلا جب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے گھبرا نہ میر عشق میں اس سہل زیست پر جب بس چلا نہ کچھ تو مرے یار مر گئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR