میر تقی میر
آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
عرش پر برچھیاں چلاتی ہے
ناز بردار لب ہے جاں جب سے
تیرے خط کی خبر کو پاتی ہے
اے شب ہجر راست کہہ تجھ کو
بات کچھ صبح کی بھی آتی ہے
چشم بد دور چشم تر اے میر
آنکھیں طوفان کو دکھاتی ہے