میر تقی میر
مر ہی جاویں گے بہت ہجر میں ناشاد رہے
مر ہی جاویں گے بہت ہجر میں ناشاد رہے
بھول تو ہم کو گئے ہو یہ تمھیں یاد رہے
ہم سے دیوانے رہیں شہر میں سبحان اللہ
دشت میں قیس رہے کوہ میں فرہاد رہے
کچھ بھی نسبت نہ تھی جب دیر سے تب کیا تھا شیخ
ہم حرم میں بھی رہے تو ترے داماد رہے
دور اتنی تو نہیں شام اجل دوری میں
تا سحر ایسی ہی جو زاری و فریاد رہے
سر تو کٹوا ہی چکے میر تڑپ سے تو بچیں
جو ٹک اک پائوں رکھے چھاتی پہ جلاد رہے