میر تقی میر
تاچند ترے غم میں یوں زار رہا کیجے
تاچند ترے غم میں یوں زار رہا کیجے
امید عیادت پر بیمار رہا کیجے
نے اب ہے جگرکاوی نے سینہ خراشی ہے
کچھ جی میں یہ آئے ہے بیکار رہا کیجے
کیفیت چشماں اب معلوم ہوئی اس کی
یہ مست ہیں وہ خونی ہشیار رہا کیجے
دل جائو تو اب جائو ہو خوں تو جگر ہووے
اک جان ہے کس کس کے غمخوار رہا کیجے
ہے زیست کوئی یہ بھی جو میر کرے ہے تو
ہر آن میں مرنے کو تیار رہا کیجے