میر تقی میر
ترا اے ناتوانی جو کوئی عالم میں رسوا ہے
ترا اے ناتوانی جو کوئی عالم میں رسوا ہے
توانائی کا منھ دیکھا نہیں ان نے کہ کیسا ہے
نیاز ناتواں کیا ناز سرو قد سے بر آوے
مثل مشہور ہے یہ تو کہ دست زور بالا ہے
ابھی اک عمر رونا ہے نہ کھوئو اشک آنکھو تم
کرو کچھ سوجھتا اپنا تو بہتر ہے کہ دنیا ہے
کیا اے سایۂ دیوار تونے مجھ سے رو پنہاں
مرے اب دھوپ میں جلنے ہی کا آثار پیدا ہے
بھلے کو اپنے سب دوڑے ہیں یہ اپنا برا چاہے
چلن اس دل کا تم دیکھو تو دنیا سے نرالا ہے
رہو ٹک دور ہی پھرنے دو کوچوں میں مجھے لڑکو
کروگے تنگ اسے تم اور تو نزدیک صحرا ہے
گلہ سن پیچش کاکل کا مجھ سے یوں لگا کہنے
تو اپنی فصد کر جلدی کہ تجھ کو میر سودا ہے