میر تقی میر میر تقی میر

خوش سر انجام تھے وے جلد جو ہشیار ہوئے

خوش سر انجام تھے وے جلد جو ہشیار ہوئے ہم تو اے ہم نفساں دیر خبردار ہوئے بے قراری سے دل زار کی آزار ہوئے خواہش اس حد کو کھنچی آہ کہ بیمار ہوئے جنس دل دونوں جہاں جس کی بہا تھی اس کا یک نگہ مول ہوا تم نہ خریدار ہوئے عشق وہ ہے کہ جو تھے خلوتی منزل قدس وے بھی رسواے سر کوچہ و بازار ہوئے سیر گلزار مبارک ہو صبا کو ہم تو ایک پرواز نہ کی تھی کہ گرفتار ہوئے اس ستمگار کے کوچے کے ہواداروں میں نام فردوس کا ہم لے کے گنہگار ہوئے وعدۂ حشر تو موہوم نہ سمجھے ہم آہ کس توقع پہ ترے طالب دیدار ہوئے سستی بخت تو ٹک دیکھ کہ اس چاہت پر معتمد غیر ہوئے ہم نہ وفادار ہوئے میر صاحب سے خدا جانے ہوئی کیا تقصیر جس سے اس ظلم نمایاں کے سزاوار ہوئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR