میر تقی میر میر تقی میر

لگوائے پتھرے اور برا بھی کہا کیے

لگوائے پتھرے اور برا بھی کہا کیے تم نے حقوق دوستی کے سب ادا کیے کھینچا تھا آہ شعلہ فشاں نے جگر سے سر برسوں تئیں پڑے ہوئے جنگل جلا کیے غنچے نے ساری طرز ہماری ہی اخذ کی ہم جو چمن میں برسوں گرفتہ رہا کیے تدبیر عشق میں بھی نہ کرتے قصور یار جو اس مرض میں ہوتے بھلے ہم دوا کیے جوں نے نہ تیرے کشتے کے لب سے رہی فغاں ہر چند بند بند بھی اس کے جدا کیے کیا حرف دل نشیں ہو مرا جیسے خط مدام اغیار روسیاہ ترے منھ لگا کیے پھر شام آشنا نہ کبھو نکلے گل رخاں ہر صبح ان سے برسوں تئیں ہم ملا کیے بے عیب ذات ہے گی خدا ہی کی اے بتاں تم لوگ خوبرو جو کیے بے وفا کیے اک خاک سی اڑے ہے منھ اوپر وگرنہ میر اس چشم گریہ ناک سے دریا بہا کیے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR