میر تقی میر میر تقی میر

برقعے کو اٹھا چہرے سے وہ بت اگر آوے

برقعے کو اٹھا چہرے سے وہ بت اگر آوے اللہ کی قدرت کا تماشا نظر آوے اے ناقۂ لیلیٰ دو قدم راہ غلط کر مجنون زخود رفتہ کبھو راہ پر آوے ٹک بعد مرے میرے طرف داروں کنے تو کوئی بھیجیو ظالم کہ تسلی تو کر آوے کیا ظرف ہے گردون تنک حوصلہ کا جو آشوب فغاں کے مرے عہدے سے بر آوے ممکن نہیں آرام دے بیتابی جگر کی جب تک نہ پلک پر کوئی ٹکڑا نظر آوے مت ممتحن باغ ہو اے غیرت گلزار گل کیا کہ جسے آگے ترے بات کر آوے کھلنے میں ترے منھ کے کلی پھاڑے گریباں ہلنے میں ترے ہونٹوں کے گل برگ تر آوے ہم آپ سے جاتے رہے ہیں ذوق خبر میں اے جان بلب آمدہ رہ تا خبر آوے کہتے ہیں ترے کوچے سے میر آنے کہے ہے جب جانیے وہ خانہ خراب اپنے گھر آوے ہے جی میں غزل در غزل اے طبع یہ کہیے شاید کہ نظیرؔی کے بھی عہدے سے بر آوے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR