میر تقی میر میر تقی میر

نہیں وہ قید الفت میں گرفتاری کو کیا جانے

نہیں وہ قید الفت میں گرفتاری کو کیا جانے تکلف برطرف بے مہر ہے یاری کو کیا جانے وہی اک مندرس نالہ مبارک مرغ گلشن کو وہ اس ترکیب نو کی نالہ و زاری کو کیا جانے پڑے آسودگان خاک چونکو شور محشر سے مرا جو کوئی بے خود ہے وہ ہشیاری کو کیا جانے ستم ہے تیری خوے خشمگیں پر ٹک بھی دلجوئی دل آزاری کی باتیں کر تو دلداری کو کیا جانے گلہ اپنی جفا کا سن کے مت آزردہ ہو ظالم نہیں تہمت ہے تجھ پر تو جفا کاری کو کیا جانے پریشاں فوج فوج لخت دل نکلے ہے آنکھوں سے نپٹ ناداں ہے…(مکمل مصرع کی تلاش ہے) ترا ابرام اس کی سادگی پر میر میں مانا بھلا ایسا جو ناداں ہو وہ عیاری کو کیا جانے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR