میر تقی میر میر تقی میر

آنکھیں لڑا لڑا کر کب تک لگا رکھیں گے

آنکھیں لڑا لڑا کر کب تک لگا رکھیں گے اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے فکر دہن میں اس کی کچھ بن نہ آئی آخر اب یہ خیال ہم بھی دل سے اٹھا رکھیں گے مشت نمک کو میں نے بیکار کم رکھا ہے چھاتی کے زخم میرے مدت مزہ رکھیں گے سبزان شہر اکثر درپے ہیں آبرو کے اب زہر پاس اپنے ہم بھی منگا رکھیں گے آنکھوں میں دلبروں کی مطلق نہیں مروت یہ پاس آشنائی منظور کیا رکھیں گے جیتے ہیں جب تلک ہم آنکھیں بھی لڑتیاں ہیں دیکھیں تو جور خوباں کب تک روا رکھیں گے اب چاند بھی لگا ہے تیرے سے جلوے کرنے شبہاے ماہ چندے تجھ کو چھپا رکھیں گے مژگان و چشم و ابرو سب ہیں ستم کے مائل ان آفتوں سے دل ہم کیونکر بچا رکھیں گے دیوان میر صاحب ہر اک کی ہے بغل میں دو چار شعر ان کے ہم بھی لکھا رکھیں گے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR