میر تقی میر میر تقی میر

تیری گلی سے جب ہم عزم سفر کریں گے

تیری گلی سے جب ہم عزم سفر کریں گے ہر ہر قدم کے اوپر پتھر جگر کریں گے آزردہ خاطروں سے کیا فائدہ سخن کا تم حرف سر کروگے ہم گریہ سر کریں گے عذر گناہ خوباں بدتر گنہ سے ہو گا کرتے ہوئے تلافی بے لطف تر کریں گے سر جائے گا ولیکن آنکھیں ادھر ہی ہوں گی کیا تیری تیغ سے ہم قطع نظر کریں گے اپنی خبر بھی ہم کو اب دیر پہنچتی ہے کیا جانے یار اس کو کب تک خبر کریں گے گر دل کی تاب و طاقت یہ ہے تو ہم نشیں ہم شام غم جدائی کیونکر سحر کریں گے یہ ظلم بے نہایت دیکھو تو خوبرویاں کہتے ہیں جو ستم ہے ہم تجھ ہی پر کریں گے اپنے بھی جی ہے آخر انصاف کر کہ کب تک تو یہ ستم کرے گا ہم درگذر کریں گے صناع طرفہ ہیں ہم عالم میں ریختے کے جو میر جی لگے گا تو سب ہنر کریں گے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR