میر تقی میر
چمن یار تیرا ہواخواہ ہے
چمن یار تیرا ہواخواہ ہے
گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے
سراپا میں اس کے نظر کرکے تم
جہاں دیکھو اللہ اللہ ہے
تری آہ کس سے خبر پایئے
وہی بے خبر ہے جو آگاہ ہے
مرے لب پہ رکھ کان آواز سن
کہ اب تک بھی یک ناتواں آہ ہے
گذر سر سے تب عشق کی راہ چل
کہ ہر گام یاں اک خطر گاہ ہے
کبھو وادی عشق دکھلایئے
بہت خضر بھی دل میں گمراہ ہے
جہاں سے تو رخت اقامت کو باندھ
یہ منزل نہیں بے خبر راہ ہے
نہ شرمندہ کر اپنے منھ سے مجھے
کہا میں نے کب یہ کہ تو ماہ ہے
یہ وہ کارواں گاہ دلکش ہے میر
کہ پھر یاں سے حسرت ہی ہمراہ ہے