میر تقی میر میر تقی میر

کبکوں نے تیری چال جو دیکھی ٹھٹھک گئے

کبکوں نے تیری چال جو دیکھی ٹھٹھک گئے دل ساکنان باغ کے تجھ سے اٹک گئے اندوہ وصل و ہجر نے عالم کھپا دیا ان دو ہی منزلوں میں بہت یار تھک گئے مطلق اثر نہ اس کے دل نرم میں کیا ہر چند نالہ ہاے حزیں عرش تک گئے افراط گریہ سے ہوئیں آبادیاں خراب سیلاب میرے اشک کے اژدر بھی بھک گئے وے مے گسار ظرف جنھیں خم کشی کے تھے بھر کر نگاہ تونے جو کی ووہیں چھک گئے چند اے سپہر چھاتی ہماری جلا کرے اب داغ کھاتے کھاتے کلیجے تو پک گئے عشاق پر جو وے صف مژگاں پھریں تو میر جوں اشک کتنے چو گئے کتنے ٹپک گئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR